
ہم نے بھی قربانی کی
منڈی سے جو نکالا تھا ہم نے ایک بکرا قربانی کو سنبھالا تھا ہم نے ایک بکرا سو محنتوں سے پالاتھا ہم نے ایک بکرا

منڈی سے جو نکالا تھا ہم نے ایک بکرا قربانی کو سنبھالا تھا ہم نے ایک بکرا سو محنتوں سے پالاتھا ہم نے ایک بکرا

نغمے ہم اپنی آزادی کے گائیں گے اور دشمن کو اپنے یونہی جلائیں گے وہ حملے کرے اور کرتا رہے حیرت کیسی ہم بھی ترکی

پاک وطن اے پاک وطن پائندہ باد پاک وطن اے پاک وطن پائندہ باد دیپ جلیں گے کھیتوں میں کھلیانوں میں علم کی طاقت سے

ہم پہ عجب پڑی ہے افتاد۔ حالت ہے سب کی ناشاد پیدائش کا دن آیا دل کی گلی ہو گئی ہے شاد کیسے کہوں لب

لوگ آتے ہیں لوگ سما جاتے ہیں کچھ دل کو ہی روگ لگا جاتے ہیں ایسا ہی حال اب ہمارا بھی ہے دل تھام کے

شہری بھی بارش کو اک مدت سے ترس جو رہے تھے بعدِ عشا ہی کرم کے بادل برس جو رہے تھے پتے بھی اب ہر

کھانا جو بھی ملے کھالو بھوک اپنی نہ کبھی ٹالو آئی جو میری باری تو فرمایا کہ کدو کھالو آئی جو اپنی باری تو فرمایا

آمنہ کے دل کے مکیں تم پر لاکھوں سلام شاہِ ایمان و یقیں تم پر لاکھوں سلام صدقہ جو سرکار کا امتی کھا رہے ہیں

ظالم سماج میں ظلم کا دو نہ ساتھ لوگو حق کی صدا بنو تھا م لو حق کا ہاتھ لوگو جبر و ستم کی کشتی
کرداروں کی فہرست: عائشہ: ایک باشعور نوجوان لڑکی جو اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوتی ہے اوراسٹریٹ کرائم کو ختم کرنے کے لیے کے لیے آواز