Sikander's Poetry

Imagination Of Sikander!

غزل: ذہنوں میں بھی کچھ کچھ اجنبی خد و خال گزرتے ہیں

ذہنوں میں  بھی کچھ کچھ اجنبی خد و خال  گزرتے ہیں لوگ  جو  ہجرت  کی بابت  جب ہم سے  دریافت کرتے ہیں سب اجداد نے وہ منظر  اپنی آنکھوں سے  دیکھے ہیں ریل میں سر کٹے ہیں کئی لاشوں کے ڈھیر بھی وہیں سڑتے ہیں اس بٹوارے  تونے بہت سے گھرانے جدا کر وائے  ہیں […]

غزل# دنیا میں حق کے ساتھ جینا ہے

دنیا میں حق  کے ساتھ ہم کو جینا  ہے اخلاق  کے دم سےکشادہ سینہ  ہے جب کشتی ظلمت کے بھنور میں ڈوبی ہے ادراک کے  ہتھیار  رکھ، یہ زینہ  ہے جب  بھی کبھی ظلمت کہیں پنجے گاڑے شر سے نہ لڑنا پھر عمل  یہ کینہ ہے حق کے جیالے  کب  ہیں بھٹکے   رستے  سے کردار […]

غزل# کٹتے ہیں تیری یادوں میں دن اس طرح

کٹتے ہیں تیری یادوں میں دن اس طرح چمن میں بھی خزاں کا موسم ہو جس طرح سوچوں میں تیرا ہی عکس ابھرتا ہے یار امبر میں کوئی قوس سنہری ہو جس طرح وصل کی کوئی تو ہوگی صورت جاناں تیرے بن یہ دن مرے گزریں گے کس طرح غم کھا کر شب و روز   […]

فیس بک کی بادشاہت( ڈرامہ)

تعا رف ڈرامہ “فیس بک کی بادشاہت“ جدید دور کی ڈیجیٹل دنیا کے عروج اور انسانی رشتوں پر اس کے اثرات کی کہانی ہے۔ یہ ڈرامہ طنز و مزاح کے ذریعے سوشل میڈیا کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں لوگ حقیقی دنیا سے کٹ کر ایک ایسی “ورچوئل دنیا” میں گم ہو جاتے ہیں […]

ڈرامہ کا عنوان: “شہرِ بے اماں ۔۔۔یا۔۔۔ بے لگام شیطان”

کرداروں کی فہرست: عائشہ: ایک باشعور نوجوان لڑکی جو اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوتی ہے اوراسٹریٹ کرائم کو ختم کرنے کے لیے  کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ علی: ایک نوجوان رضاکار جو جرائم کے خلاف عوام کو متحد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وسیم: ایک غریب نوجوان جو مجبوریوں کی وجہ سے جرم کی راہ […]

غزل# حیات یوں ہی بسر ہوتی ہے فسانے میں

حیات  یوں ہی بسر ہوتی ہے فسانے میں بشر کے پیچھے لگا ہے بشر زمانے میں جفائے یار کی نظروں کا ہی شکار ہوا ہے شرم کب نشاں دل کے مجھے دکھانے میں دیارِ یار میں اب میرا لگتا ہی جی نہیں  اے دوست جا بسیں  گے ہم کسی ٹھکانے میں کہا ہے ہم نہیں  […]

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ نعمتوں کا در نبی کی ذات ہے

نعمتوں  کا در نبی کی ذات ہے گھر کے ہر محسن کی کیا ہی بات ہے  یٰس کہے  وہ  پاک بولے بادشہ رکھتا رب دیکھو کیا جذبات ہے زلف کی کھا کر قسم  چرچا کیا  آقا کی چاہت  ہی کا اثبات ہے رب نبی  کو ہی مہر روشن  کہے  اپنے تیئیں کرتا  لو کی بات […]

غزل: خُلْق حسن ذات کا قرینہ ہی توہے

خُلْق حسن ذات کا قرینہ ہی توہے جسم میں  ہو خوشبو وہ پسینہ ہی تو ہے شرم نہ ہو  یار جس دلِ بے خبر  میں ڈوبا تو اس انساں کا سفینہ  ہی توہے آدمی  کی شان کا ہے یہ  حسیں زیور پیہمِ صالح کا یہ خزینہ  ہی تو ہے فطرتِ آدم میں تو بہکنا ہی […]

تقریر : اس کی ٹوپی اس کے سر

ہیرا پھیری جس کی ڈگر ہے بندہ یہ دو نمبر کر تا کام نہیں کوئی اس کی ٹوپی اُس کے سر جنابِ صدر!! !!! اس عنوان  نے بڑے بڑے دانشوروں کو چکرا  کر رکھ دیا ہے اور ننھے منھے راہیوں  کو بہت بڑا فلسفی بنا دیا ہے۔ سقراط اور بقراط کی روحیں  تو اس فلسفے […]

موجودہ ملکی حالات میں طلبا کا کردار

سکندر سجاد کے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔۔ بین الاقوامی  حالات کے تنا ظر میں  اس وقت پاکستان کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے ۔امریکہ کا دباؤ اپنی جگہ بہت پر اثر ہے ،لیکن روس بھی اپنی کوششوں میں پیچھے نہیں ہے ۔یورپ کا کردار اس بات کا غماز ہے کہ وہ برطانیہ کے […]